بھٹکل11 / فروری (ایس او نیوز) کچھ دن پہلے بھٹکل میں ناگ بنا چبوترا تعمیر کرنے کے سلسلے میں مقامی ایم ایل اے کے ہندوتوا ساتھیوں کے ساتھ مقامی افراد اور ٹی ایم سی کا جس طرح کا تنازعہ پیدا ہوا تھا کچھ ایسا ہی معاملہ اب ضلع اُترکنڑا کے ہلیال سے سامنے آیا ہے ، جہاں کٹر ہندوتوا وادی گروپ نے پارک کے قریب ٹی ایم سی کی طرف سے بچھائے گئے انٹرلاکس ہٹا کر وہاں بھگوا جھنڈا لہرایا ہے اور آر ایس ایس کی سلامی والا گیت گایا ہے۔
میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق مرڈی گُڈا پارک کے قریب دسہرا کے موقع پر پالکی روکنے اور پوجا کرنے کا ایک چبوترا ہے ۔ اس کے قریب ہی عید گاہ میدان بھی ہے ۔ یہ جو ہندووں کے مذہبی رسوم والا چبوترا ہے، وہاں بنّی منٹپ تعمیر کیا جاتا ہے ۔ اس خالی جگہ پر اب اظہرالدین بسری کٹّے کی صدارت والی ہلیال ٹی ایم سی نے انٹر لاک بچھانے کا کام کیا ۔ جس پر گرام دیوی ٹرسٹ نے سخت اعتراض جتایا اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے آدھے دن کے لئے بازار بند کا اعلان کیا ۔ جس کی وجہ سے بہت سی دکانیں اور کاروباری ٹھکانے بند رہے ۔
اس کے بعد متعلقہ مقام پر بھکتوں کے نام پر سیکڑوں کی تعداد میں جمع ہونے والے نوجوانوں نے بچھائے گئے انٹر لاکس اکھاڑ کر پھینکتے ہوئے وہاں پر ایک کھمبا نصب کرکے اس پر بھگوا جھنڈا لہراتے ہوئے آر ایس ایس کی سلامی والا گیت گایا گیا۔
جب بی جے پی لیڈرسنیل ہیگڈے اور دیگر لیڈروں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرا اور انٹرلاکس اکھاڑنے کا واقعہ پیش آ رہا تھا تو پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر حالات بہت کشیدہ ہوگئے جس کی وجہ سے علاقہ میں دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکام نافذ کیے گئے ۔
گرام دیوی ٹرسٹ کے صدرمنگیش دیشپانڈے کا کہنا ہے کہ : گرام دیوی کے بھکت جس جگہ مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں ، جان بوجھ کر اُس جگہ پر ہی انٹرلاکس بچھائے گئے تھے ۔ گرام دیوی سے متعلقہ جگہ پر تعمیراتی کام کرنے سے قبل گرام دیوی ٹرسٹ کو اس کی جانکاری دینی چاہیے تھی ۔ اس کے بجائے ٹی ایم سی کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کرنا بالکل درست نہیں ہے ۔